پاکستانی نژاد وجیہہ برطانوی یونیورسٹی کی تاریخ کا کم عمر ترین طالب علم
ان کے والدین پاکستانی نژاد برطانوی ہیں۔ ان کے والدعثمان احمد پی ایچ ڈی فزکس اور والدہ سعدیہ احمد کے پاس قانون کی ڈگری ہے۔
برطانیہ کے شہر چنڈلر فورڈ 'ساؤتھ ہمپٹن ' سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد وجیہہ احمد کی عمر صرف چودہ سال ہے ۔وہ برطانوی
یونیورسٹیزکی تاریخ کے کم عمرترین طالب علم ہیں۔
انھیں یہ اعزاز ان کے GCSE میٹرک اورA,levelدونوں کے پندرہ مضامین میں سے گیارہ مضامین میں *A اوربقیہ مضامین میں A لانے کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔غیر معمولی ذہانت کے حامل وجہیہ احمد نے اے لیول کے میتھس ، ایڈوانسڈ میتھس ،کیمسٹری اور فزکس کے مضامین میں A* حاصل کیا جو کہ یونیورسٹی میں داخلہ شرائط سے کہیں زیادہ ہیں۔
سال2011 میں وجیہہ احمدSouthampton Universityمیں انڈر گریجوٹس تین سالہ ڈگری پروگرام میں داخلے کا فارم بھرا تھا، جسے یونیورسٹی کی جانب سے منظورکر لیا گیا۔تاہم ان کے مزید جی سی ایس ای اور اے لیول مضامین کے پاس کرنے کے بعد ہی وہ یونیورسٹی شروع کر سکتے تھے۔وجہیہ نے ایک سال میں نہ صرف تمام مضامین پاس کئے بلکہ A* کے ساتھ اپنے لیے یونیورسٹی میں جگہ کو یقینی بنا لیا۔وجیہہ احمد کے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے ۔ ان کے والدعثمان احمد پی ایچ ڈی فزکس اور والدہ سعدیہ احمد کے پاس قانون کی ڈگری ہے۔
سعدیہ احمد نے بتایا کہ ان کے شوہر میتھس میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ جب وجہیہ کی عمر صرف تین سال تھی تب سے انھیں مختلف طریقوں سے میتھس کی تعلیم دی جارہی ہے۔ان کے بقول، ہمیں بہت پہلے یہ احساس ہو گیا تھا کہ وجہیہ میں اپنی عمر کے لحاظ سے سیکھنے کی غیرمعمولی صلاحیت اور ذہانت موجود ہے۔
جب وجیہہ کی عمر نو سال تھی اسوقت ہم نے اسے' جی سی ایس ای' کے میتھس کا امتحان دلوایا ،جو اس نے A* سے پاس کر لیا ،اس کے بعد دس سال میںA level کے میتھس اور ایڈوانسڈ میتھس میں A* حاصل کیا۔اس کامیابی کے بعد وجہیہ نے خود اس بات میں دلچسپی ظاہر کی کہ وہ چودہ سال کی عمر میں یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرے گا۔ سعدیہ احمد کے مطابق انھوں نے وجہیہ کی پڑھائی کا ٹائم ٹیبل بنا دیا اور اس کے امتحانات کی تیاری سے لے کر یونیورسٹی میں داخلہ کے حصول تک تمام مراحل میں وہ وجیہہ کے ساتھ ساتھ رہی ہیں۔
بقول سعدیہ احمد کے وجیہہ نے اس منزل کو پانے کے لیے بہت محنت کی کیوں کہ ایک طرف تو وہ اسکول جاتا اورساتھ ہی پارٹ ٹائم میں بھی کلاس لیتا۔ اس سلسلے میں اس کے استادوں کا اہم کردار ہے انھوں نے وجہیہ کی پڑھائی کو خاص وقت دیا، اس طرح ایک سال کی انتھک محنت کا ثمر وجہیہ کو اس کے اچھے رزلٹ اور یونیورسٹی میں داخلے کی صورت میں ملا۔ایک سوال کے جواب میں وجیہ نے بتایا کہ وہ ہر روز دو گھنٹے خوب دل لگا کر پڑھتے ہیں،اس کے علاوہ انھیں کمپیوٹر گیمزاور فٹبال کھیلنا اچھا لگتا ہے،کھانوں میں انھیں پاکستانی کھانے پسند ہیں۔یونیورسٹی سے متعلق انھیں کسی قسم کی کوئی فکر لاحق نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ شروع ہی سے اپنے سے بڑی عمر کے طالب علموں کے ساتھ پڑھتے رہے ہیں۔
اسکول کے دوستوں کو مس کرنے کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ان کے دوست ان کے محلے ہی میں رہتے ہیں اس لیے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اب بھی وقت گزار سکتے ہیں۔ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ وجہیہ اپنی عمر کے مقابلے میں بہت سمجھ دار ہے اور انھیں یقین ہے کہ وہ یونیورسٹی میں کسی غیر ضروری سر گرمی میں حصہ نہیں لے گا۔
ساؤتھ ہمپٹن یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر' ڈیبرا ہمسفیر' کا کہنا تھا کہ ہم وجیہہ کو یونیورسٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں،ان کو یونیورسٹی میں دوران تعلیم بہترین درجے کی سہولت اور رہنمائی ملے گی۔وجیہہ Phd کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،جبکہ مستقبل میں فنانس سیکٹر میں Actuary بننا چاہتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment