Saturday, December 22, 2012

پاکستان:





پاکستان:

جہاں جوتے خریدنے کے بھی پیسے نہ ہوں اور کوئی ہاشم خان سکواش کے میدان میں جھنڈا گاڑ دے اور پھر اگلے باون برس تک اس کا خاندان یہ جھنڈا نہ گرنے دے۔


جہاں ملک کے اڑتیس فیصد بچے پہلی جماعت بھی مکمل کیے بغیر سکول سے ڈراپ آؤٹ ہوجائیں اور کوئی علی معین نوازش ایک ہی برس میں اکیس مضامین میں اے لیول لینے کا عالمی ریکارڈ قائم کردے،

جہاں ولید امجد ملک اقوامِ متحدہ کے تحت انسانی حقوق پر مضمون نگاری کے عالمی مقابلے میں اول آجائے۔

جہاں نو سالہ ارفع کریم دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سوفٹ کمپیوٹر انجینیر کے طور پر ابھر آئے۔

جہاں نابیناؤں کے لیے نہ تعلیم کی ضمانت ہو اور نہ ہی روزگار کی وہاں کے نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم ایک نہیں دو ورلڈ کپ جیت جائے۔

جہاں کے پہاڑی لوگ غیرملکی کوہ پیماؤں کے قلی بن کر گھر کا چولہا جلنے پر خوش ہوجائیں اور ان میں سے کوئی نذیر صابر اور پھر کوئی حسن صدپارہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لے۔

جہاں ایم ایم عالم نامی ایک پائیلٹ ایک پرانے فائیٹر جہاز سے صرف ایک منٹ میں دشمنوں کے پانچ طیارے گرا کر دنیا کی ہوائی جنگ میں نہ ٹوٹنے والا ریکارڈ بنا دے

جہاں اوپر سے نیچے تک کچھ لے دیئے بغیر سرمایہ کاری کا تصور ہی محال ہو وہاں کا کوئی اسد جمال فوربس میگزین کی ٹاپ ہنڈرڈ گلوبل وینچر کیپٹلسٹ لسٹ میں آٹھویں نمبر پر آجائے۔

جہاں ایسے حالات میں بھی لوگ ایسے کارنامے سر انجام دے رہے ہو سر فخر سے بلند ہو جائے
اور اگر حالات سازگار ہو جائیں تو یہ ملک بلاشبہ دنیا کا بہترین ملک بن جائے

یہ ہے میرا وطن ، میرا فخر، میری پہچان، میرا پیارا پاکستان
مجھے فخر ہے پاکستانی ہعنے پر۔۔

Monday, October 15, 2012

Bushra Siddiqui is Pakistan's Youngest Blogger


Bushra Siddiqui is Pakistan's Youngest BloggerBushra Siddiqui (She is only 11) started her blog “Girly Stuff” with the objective to unleash her creative side. She writes, compared to her age, immaculately. Bushra is student of class five at Aitchison Model School in Karachi. She lives in the semi elite locality—-Gulshan-e-Iqbal. She is daughter of senior executive working for a US-based NGO aiming to , among other things, empower women folks of Pakistan. So the charity has begun at home!Little Bushra is a voracious reader of books on story’s, creative writing and general knowledge. She has the distinction of being the topper in her class, apart from bagging various trophies for extra-curricular activities.

Thursday, September 27, 2012

Ali Moeen Nawazish is a Pakistani student notable for passing 23 A-levels



Ali Moeen Nawazish is a Pakistani student notable for passing 23 A-levels, a world record. He got 21 As, a B, and a C. Nawazish has graduated from Trinity Hall, Cambridge.

Nawazish claims to be an ordinary student whose academic performance oscillated as a child; he sometimes barely passed. He edited the school magazine. He plays the guitar and piano, and played for a musical band. He is a practicing Muslim.

Ibrahim Shahid is an A level student from Islamabad, Pakistan


Ibrahim Shahid is an A level student from Islamabad, Pakistan.

He stunned the world in January 2012 by setting a new world record by scoring 23 As in the Cambridge O level exams.

“My teacher said I would never excel.”, Ibrahim Shahid had said after achieving the distinction. But he continued to struggle and finally achieved much more than expected by anyone.

Babar Iqbal is a young Pakistani I.T. Programer



Babar Iqbal is a young Pakistani I.T. prodigy who started computer programming at the age of 5. He came to prominence by becoming the youngest Microsoft Certified Professional (MCP) in the world at the age of 9, as well as obtaining the record of being the youngest CIWA aged 9, youngest CWNA at 10, youngest Microsoft Student Partner (MSP) at 11 and youngest MCTS in .NET 3.5 at 12.

His research has been accepted by 8th IEEE International Conference on Innovations in Information Technology (Innovations'12). As of 2009 Iqbal was based in Dubai, United Arab Emirates and was undergoing training and working with Microsoft.

Shabash Pakistan - Kiun ka acha hai Pakistan

Sitara Brooj Akbar



Sitara Brooj Akbar is the female holder of both Pakistani and world records based on her passing of O Level between the ages of 9 and 11.

She passed her first O Level Exam in Chemistry at nine years of age, a record in Pakistan. Sitara succeeded in setting her first world record after passing O-level Biology at the age of 10. In addition to this honour, Sitara also holds the title of being the youngest Pakistani candidate of the International English Language Testing System (IELTS) and successfully attained seven bands out of nine, scoring 7.5 in the testing system.

Shabash Pakistan - Kiun ka acha hai Pakistan

The students of Sir Syed University



The students of Sir Syed University, Pakistan have developed a speed breaker capable of generating energy. This is the first in Asia and third of the world the best ramp design that has gained superiority over the companies in Uk, USA and Canada. Talking to a newspaper Khasrao Bakht told that group leader of the project is Tahsin Ilahi, while among others include Arsalan Zafar, Murtaza Mohud din, Asif Nawaz, Shoab Altaf and Khusro Bakht. 

He said that when vehicle passes over the speed breaker the generator installed in it starts and and from the one push of the vehicle 240 watts energy is generated that can be stored in the battery. This latest system of producing electricity can be monitored by a single control system. And from this system 100 energy ramps can be installed and controlled easily. He told that the basic objective of the system is to control the traffic coming from wrong direction and to minimize the number of accidents. The electricity produced from speed breakers can be used for signal and street lights, as well as as u turn lights. 

The speed breaker can be installed before zebra crossing. In addition, these can be installed on the exit and entrance ways of airports, shopping malls and toll plazas. This speed breaker is safe for the tires of the vehicles and with the light push the jumpers of the cars remain unaffected. The speed breaker developed with a cost of 2.5 lakh rupees is cheaper than the price of solar panel and wind mills.

Tuesday, September 25, 2012

پاکستانی نژاد وجیہہ برطانوی یونیورسٹی کی تاریخ کا کم عمر ترین طالب علم




پاکستانی نژاد وجیہہ برطانوی یونیورسٹی کی تاریخ کا کم عمر ترین طالب علم



ان کے والدین پاکستانی نژاد برطانوی ہیں۔ ان کے والدعثمان احمد پی ایچ ڈی فزکس اور والدہ سعدیہ احمد کے پاس قانون کی ڈگری ہے۔
برطانیہ کے شہر چنڈلر فورڈ 'ساؤتھ ہمپٹن ' سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد وجیہہ احمد کی عمر صرف چودہ سال ہے ۔وہ برطانوی 
یونیورسٹیزکی تاریخ کے کم عمرترین طالب علم ہیں۔

انھیں یہ اعزاز ان کے GCSE میٹرک اورA,levelدونوں کے پندرہ مضامین میں سے گیارہ مضامین میں *A اوربقیہ مضامین میں A لانے کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔غیر معمولی ذہانت کے حامل وجہیہ احمد نے اے لیول کے میتھس ، ایڈوانسڈ میتھس ،کیمسٹری اور فزکس کے مضامین میں A* حاصل کیا جو کہ یونیورسٹی میں داخلہ شرائط سے کہیں زیادہ ہیں۔

سال2011 میں وجیہہ احمدSouthampton Universityمیں انڈر گریجوٹس تین سالہ ڈگری پروگرام میں داخلے کا فارم بھرا تھا، جسے یونیورسٹی کی جانب سے منظورکر لیا گیا۔تاہم ان کے مزید جی سی ایس ای اور اے لیول مضامین کے پاس کرنے کے بعد ہی وہ یونیورسٹی شروع کر سکتے تھے۔وجہیہ نے ایک سال میں نہ صرف تمام مضامین پاس کئے بلکہ A* کے ساتھ اپنے لیے یونیورسٹی میں جگہ کو یقینی بنا لیا۔وجیہہ احمد کے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے ۔ ان کے والدعثمان احمد پی ایچ ڈی فزکس اور والدہ سعدیہ احمد کے پاس قانون کی ڈگری ہے۔

سعدیہ احمد نے بتایا کہ ان کے شوہر میتھس میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ جب وجہیہ کی عمر صرف تین سال تھی تب سے انھیں مختلف طریقوں سے میتھس کی تعلیم دی جارہی ہے۔ان کے بقول، ہمیں بہت پہلے یہ احساس ہو گیا تھا کہ وجہیہ میں اپنی عمر کے لحاظ سے سیکھنے کی غیرمعمولی صلاحیت اور ذہانت موجود ہے۔

جب وجیہہ کی عمر نو سال تھی اسوقت ہم نے اسے' جی سی ایس ای' کے میتھس کا امتحان دلوایا ،جو اس نے A* سے پاس کر لیا ،اس کے بعد دس سال میںA level کے میتھس اور ایڈوانسڈ میتھس میں A* حاصل کیا۔اس کامیابی کے بعد وجہیہ نے خود اس بات میں دلچسپی ظاہر کی کہ وہ چودہ سال کی عمر میں یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرے گا۔ سعدیہ احمد کے مطابق انھوں نے وجہیہ کی پڑھائی کا ٹائم ٹیبل بنا دیا اور اس کے امتحانات کی تیاری سے لے کر یونیورسٹی میں داخلہ کے حصول تک تمام مراحل میں وہ وجیہہ کے ساتھ ساتھ رہی ہیں۔
بقول سعدیہ احمد کے وجیہہ نے اس منزل کو پانے کے لیے بہت محنت کی کیوں کہ ایک طرف تو وہ اسکول جاتا اورساتھ ہی پارٹ ٹائم میں بھی کلاس لیتا۔ اس سلسلے میں اس کے استادوں کا اہم کردار ہے انھوں نے وجہیہ کی پڑھائی کو خاص وقت دیا، اس طرح ایک سال کی انتھک محنت کا ثمر وجہیہ کو اس کے اچھے رزلٹ اور یونیورسٹی میں داخلے کی صورت میں ملا۔ایک سوال کے جواب میں وجیہ نے بتایا کہ وہ ہر روز دو گھنٹے خوب دل لگا کر پڑھتے ہیں،اس کے علاوہ انھیں کمپیوٹر گیمزاور فٹبال کھیلنا اچھا لگتا ہے،کھانوں میں انھیں پاکستانی کھانے پسند ہیں۔یونیورسٹی سے متعلق انھیں کسی قسم کی کوئی فکر لاحق نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ شروع ہی سے اپنے سے بڑی عمر کے طالب علموں کے ساتھ پڑھتے رہے ہیں۔

اسکول کے دوستوں کو مس کرنے کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ان کے دوست ان کے محلے ہی میں رہتے ہیں اس لیے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اب بھی وقت گزار سکتے ہیں۔ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ وجہیہ اپنی عمر کے مقابلے میں بہت سمجھ دار ہے اور انھیں یقین ہے کہ وہ یونیورسٹی میں کسی غیر ضروری سر گرمی میں حصہ نہیں لے گا۔
ساؤتھ ہمپٹن یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر' ڈیبرا ہمسفیر' کا کہنا تھا کہ ہم وجیہہ کو یونیورسٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں،ان کو یونیورسٹی میں دوران تعلیم بہترین درجے کی سہولت اور رہنمائی ملے گی۔وجیہہ Phd کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،جبکہ مستقبل میں فنانس سیکٹر میں Actuary بننا چاہتے ہیں۔

Monday, September 24, 2012

Pakistani-origin woman becomes Norway's minister



پاکستانی نژاد ہادیہ تاجک ناروے کی پہلی مسلم خاتون وزیر مقرر

Pakistani-origin woman becomes Norway's minister

ناروے میں پہلی پاکستانی نژاد مسلم خاتون کو وزیر ثقافت مقرر کر دیا گیا۔ ناروے کے وزیر اعظم جینز اسٹولٹن برگ نے اسی ہفتے اپنی کابینہ میں رد وبدل کیا ہے اور اس میں پہلی مرتبہ ایک مسلم خاتون کو وزارت ثقافت کا قلم دان سونپا ہے۔

خاتون وزیر انتیس سالہ ہادیہ تاجک پاکستانی نژاد ہیں۔انھیں جمعہ کو ناروے کی وزیر ثقافت مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اس سیکنڈے نیوین ملک کی تاریخ میں کابینہ میں شامل ہونے والی پہلی مسلم خاتون اور سب سے کم عمر وزیر ہیں۔ ہادیہ تاجک نے وزیر مقرر ہونے سے قبل ہی آئندہ مہینوں کے حوالے سے اپنے پروگرام کی تشہیر شروع کر دی تھی اور انھوں نے کہا تھا کہ ناروے میں ثقافتی تنوع کو روزمرہ زندگی کا ایک غیر متنازعہ حصہ ہونا چاہیے۔وہ ناروے میں 2009ء میں منعقدہ عام انتخابات میں حکمراں لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پارلیمان منتخب ہوئی تھیں۔یہ جماعت پارلیمان میں دارالحکومت اوسلو کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہادیہ تاجک سیاست میں آنے سے قبل صحافیہ رہی ہیں۔انھیں سال 2008ء سے2009ء کے درمیان وزیر انصاف نٹ اسٹوربرگٹ کی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔


Hadia Tajik was appointed as Norway’s minister of culture.


Norwegian Prime Minister Jens Stoltenberg has appointed a Muslim woman as part of his government during a Cabinet reshuffle this week.

Hadia Tajik, 29, from Pakistani decent, was appointed on Friday as Norway’s minister of culture.

Hadia has become the first ever Muslim cabinet member and youngest ever government minister in the Scandinavian country.

The newly appointed minister of culture has already publicized her program for the upcoming months and highlighted that cultural diversity should become an undisputable part of Norway’s everyday life.

In 2009 she was elected as MP for the Norwegian Labour Party that represented Oslo.

Tajik had worked as journalist before she was made advisor to Minister of Justice, Knut Storberget between 2008 and 2009

Sunday, September 23, 2012

Ubaidullah an has bagged gold medal in an international contest held in Turkmenistan


Karachi: A Pakistani student from Baluchistan province has bagged gold medal in an international contest held in Turkmenistan leaving all the countries like Germany, Canada, Russia, England, India, Bangladesh, Sri Lanka behind.
M. Ubaidullah son of Haji Talib Din, a rice trader, is a class ninth student of Pak-Turk International Schools a
nd Colleges, Quetta has brought home a gold medal from the International Computer Project Olympiad (ICPO) held in Ashgabat, Turkmenistan.
The competition was held among students from forty-five countries who presented one hundred and fifty projects in the Olympiad.
Ubaidullah’s project that caught attention of participants, organisers and judges was regarding Plant Automation System; subsequently he was awarded for the 1st position worldwide in the hardware category.
His project P-Bot aims to save plants in cold-flame or greenhouse setting, especially when someone wants to protect the plants at home in all the seasons. P-Bot automates the round-the-year tasks of plant care by means of its full-automatic Cold Flame and Greenhouse routines.
The bot helps people save time in caring about plants and is power-thrift by powering itself by its solar cells. The microprocessors board optimizes the maximum energy possible to power the bot to fulfill its duties.
Upon arrival to Pakistan, Chairman Pak-Turk International Educational Foundation Unal Tosur, Director Education Kamil Ture, Ebubekir Haspolat, Ahmet Efi Turk and others congratulated Ubaidullah and project supervisor Halil Barış for their outstanding achievement that has brought pride and distinction to Pakistan.
On the occasion, Unal Tosur said that we will continue to encourage Pakistani students become independent, innovative and knowledgeable so that they can become great leaders in multiple fields in the years to come.
While maintaining constructive environment in and outside classroom, we are creating opportunities for students to pursue their own interests and practise skills in a variety of ways, he added.
It may be mentioned that ICPO is an international competition which brings the world’s best IT students together. It also serves to promote intercultural dialogue and cooperation, through the involvement of students and teachers from many different countries.

Wednesday, September 19, 2012

نیویارک کی پاکستانی شیف



نیو یارک شہر کے 70 اعلیٰ ترین ریستورانوں میں فاطمہ علی کے علاوہ اور کوئی غیر امریکی خاتون شیف موجود نہیں۔


واشنگٹن — نیویارک شہر کے ریستورانوں میں جن شیفس کا ڈنکا بجتا ہے ان کی اکثریت مرد ہے اور اس صف میں خواتین کم کم ہی ہیں۔اور کسی بھی غیر امریکی خاتون کے لیے تو شہر کے معروف شیفس کی صف میں آنا خاصا مشکل اور محنت طلب کام ہے۔ لیکن ایک نوجوان پاکستانی خاتون یہ کر گزری ہیں۔

فاطمہ علی نیو یارک کے مصروف علاقے 'مڈ ٹائون  مین ہٹن' کے معروف ریستوران 'کیفے سینٹرو' میں اسسٹنٹ شیف ہیں۔ ان کا اعزاز صرف یہی نہیں کہ اس کم عمری میں ہی ان کا شمار شہر کے معروف  شیفس میں ہونے لگا ہے بلکہ وہ ان چند پاکستانی خواتین میں شامل  ہیں جو امریکہ میں کوکنگ کے سب سے معتبر ادارے 'کلنری انسٹی ٹیوٹس آف آرٹس' سے فارغ التحصیل ہیں۔

لیکن ان کے پاس ایک اعزاز اور بھی ہے جو انہیں حقیقی معنوں میں ممتاز کرتا ہے۔ 'وائس آف امریکہ' کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق نیو یارک شہر کے 70 اعلیٰ ترین ریستورانوں میں فاطمہ علی  کے علاوہ اور کوئی غیر امریکی خاتون شیف موجود نہیں۔

فاطمہ پاکستان ہی میں پلی بڑھی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ اب ان کے پاس اپنے ملک کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ امریکہ میں اپنے قیام اور یہاں حاصل ہونے والے تجربات کے بارے میں ان کا کہنا ہے،

"یہاں امریکہ میں رہ کے مجھے کئی ایسے تجربات ہوئے ہیں جو پاکستان میں نہیں ہوسکتے تھے۔ مثال کے طور پر یہاں کھانوں میں شامل کرنے کےلیے اجزا کی جو ورائٹی دستیاب ہے، پاکستان میں وہ نہیں۔  بہر حال یہ ایک بڑا زبردست خیال لگتا ہے کہ جو کچھ میں نے یہاں سیکھا وہ میں واپس جاکر  اپنے گھر والوں اور دوستوں کو پکا کر کھلائوں"۔

جولائی میں فاطمہ نے دیگر شیفس کے ہمراہ 'فوڈنیٹ ورک ٹی وی' کے شو 'چوپڈ' میں حصہ لیا اور پاکستانی چٹخاروں سے آراستہ مغربی کھانے بنا کر مقابلہ جیتا اور 10 ہزار ڈالر انعام کی حقدار ٹہریں۔

اپنی اس کامیابی کے بارے میں فاطمہ کہتی ہیں، "یہ سب میرے خاندان کی قربانیوں  کا نتیجہ ہے جو انہوں نے مجھے گھر سے اتنی دور بھیجنے کے لیے دیں تاکہ میں یہاں کے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے میں پڑھ سکوں۔ اور اب میں نوجوان پاکستانی لڑکیوں کے لیے ایک مثال بننا چاہتی ہوں تاکہ وہ بھی میری طرح اپنے خوابوں کی دنیا تراشیں"۔

'کیفے سینٹرو' کے ماسٹر شیف جان ہوفمن بھی فاطمہ کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فاطمہ کو مزید دو، تین سال اپنی شاگردی میں رکھیں گے جس کےبعد انہیں یقین ہے کہ وہ بھی ایک ماسٹر شیف ہوجائیں گی۔

فاطمہ اپنی یہ عملی تعلیم  مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپسی کا سوچ رہی ہیں جہاں وہ ایسے باورچی خانے کھولنا چاہتی ہیں جن میں ایک جانب غریب گھرانوں کو صاف ستھرا اور کم قیمت کھانا مل سکے تو دوسری جانب نوجوانوں کو کھانا پکانا سکھا کر روزگار کی نئی راہیں دکھائی جائیں۔

Pakistan First Robotic Car


http://youtu.be/pFkplY-ji6U


Mr.Inyat have converted an ordinary Suzuki car to a robotic-car in 2006. Wrote 185 pages masters thesis in which he has described that how an ordinary Suzuki car is converted into a robotic-car. It was a self controlled as will as remote controlled car. It was tested and demonstrated in University ground, on ordinary congested roads, in car parks and run at a speed of 80 Kilo meters per hour. This demonstration was recorded by different TV Channels and Print Medias. It can be controlled verbally in an ordinary spoken English language as will as through keyboard, joystick and through screen buttons etc. It can also be controlled globally through Satellite where the Satellite access is available. Basically I was a medical group student but I came towards the computer engineering side to see that how the human brain is working. Now He wish to use this AI/Robotics Technology to develop disabled peoples hands, legs, eyes etc.

ارفع کریم: حیرتوں کا جہاں


ارفع کریم: حیرتوں کا جہاں

ابا گھر میں کمپیوٹر کیا لائے ....سب پر اس عجیب شے کو دیکھ کر حیرتوں کے پہاڑ سے ٹوٹ پڑے، خصوصا ًننھی ارفع نے جب کمپیوٹر میں تصویریں اِدھر سے اُدھر پھدکتی دیکھی تو دانتوں تلے اُنگلی داب لی ....کچھ دنوں میں مانوس ہو گئی تو کہنے لگی:” یہ خوب جادو ہے، بٹن دباﺅ تو ڈبے کے اوپر جا دو کی سی چیز نمایاں ہو جاتی ہے۔“

کمپیوٹر تھی ہی ایسی چیز .... کہ ہر شخص اُس میں دلچسپی لیتا نظر آتا تھا۔ کچھ عرصے میں ننھی ارفع نے بھی کمپیوٹر کی شدبد حاصل کرلی ....ابا نے جب ارفع کی دلچسپی کو دیکھا تو اُسے فیصل آباد کے ایک کمپیوٹر سینٹر میں داخلہ دلانے لے گئے۔ ارفع کے والد ”کرنل امجد کریم رندھاوا“ نے کمپیوٹر سینٹر کے ہیڈ منسٹر یٹر سے کہا:” میری بیٹی کو کمپیوٹر کا بہت شوق ہے۔ اسے سنٹر میں داخلہ دے دیجیے!“ عینک کے پیچھے سے جھانکتی آنکھوں نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تھا۔” ہم بچوں کو داخل نہیں کرتے۔“ لیکن ....! امجد کریم پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھے۔ انہوں نے اصرار جاری رکھتے ہوئے کہا:” آپ اس سے مل لیں .... کچھ کمپیوٹر کے حوالے سے پوچھ لیں ....اگر سمجھ آجائے تو ٹھیک ورنہ ہم واپس چلے جائیں گے۔“ ٹیچر سہیل نے جب بچی کا امتحان لیا تو انگشت بدنداں رہ گئے۔ ذہانت کا مادہ جیسے اس بچی میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔8 سالہ ارفع اب با قاعدگی کے ساتھ سینٹر جانے لگی تھی۔ ارفع نے دوسرے ہم عمر بچوں کی طرح کمپیوٹر کو صرف کھیلنے والی مشین نہیں سمجھا بلکہ آہستہ آہستہ کمپیوٹر سے ہی اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جوابات حاصل کرنا شروع کر دیے۔ جس عمر میں دوسرے بچوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مختلف شعبہ جات کے بارے میں علم نہیں ہوتا، اس عمر میں ارفع کریم نے آئی ٹی کے بارے میں وہ کچھ جان لیاجو ایک کمپیوٹر ماہر کئی سالوں کی انتھک محنت کے بعد سیکھتا ہے۔ پھر جب کچھ دنوں بعد اس نے ”مائیکرو سافٹ سر ٹیفائیڈایپلی کیشن ڈویلپر“ کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا تو اس کے والدین سمیت اس کے ٹیچر حیرت ذدہ رہ گئے۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھاکہ ارفع نے اس امتحان میں اعلیٰ درجے کے نمبر حاصل کیے ہیں۔

یہاں تک کہ جب امجد کریم رندھاوا نے یہ خبر مائیکرو سافٹ کے بانی ”بل گیٹس“ تک پہنچائی تو اس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ مگر شروع میں تو کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔
”ہم کیسے مان لیں کہ ایک 9 سال کی بچی نے مائیکروسافٹ کا ٹیسٹ پاس کر لیا ہے۔“ ابھی ایک نے یہ بات ختم نہیں کی تھی کہ دوسرا مائیکروسافٹ کمپنی کا افسر بول پڑا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی بچی ایسا کارنامہ سرانجام دے اور وہ بھی پاکستانی ....!ہونہہ .... ناممکن ....!“

مائیکرو سافٹ کمپنی کے ”ہندو لابی“ کے اس رو یئے نے انہیںمایوس کیا، مگر انہوں نے اُمید کا دامن نہیں چھوڑا اور بولے۔” آپ ایک بار بچی سے مل لیں ....اگر وہ آپ کے اندازے کے مطابق کا رنامہ انجام نہیں دے سکتی تو میرا اصرار نہیں رہے گا، لیکن آپ بہر حال ایک بار مل لیں۔ مائیکروسافٹ کمپنی نے ان کی یہ بات مان لی، سنگاپور اور کراچی آفس سے دو لوگ 9سالہ ارفع کا انٹر ویو لینے پاکستان آئے۔ انہوں نے ناصرف انٹر ویو لیا بلکہ اسے مزید جانچنے کے لیے دوبارہ ٹیسٹ لیا....ٹیسٹ لینے کے بعد ان کا دل کہہ رہا تھا کہ اس حیرت انگیز بچی کی اس شاندار کارکر دگی پر جتنا زیادہ حیرت کا اظہار کیا جائے، وہ کم ہے۔

بل گیٹس سے ملنا پھر بھی کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ارفع کے والد ”کانگو“ میں تھے اور ان کی پھوپھی انجم النساءجو ارفع کو ”برفی“ کہا کرتی تھیں۔ اس کے ساتھ اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے گئی۔ پھوپھو خود ایک کالج میں لیکچرار تھیں مگر امریکی ویزہ دینے سے پہلے بہت سوال کرتے ہیں اور وہ سوچ رہی تھی کہ وہ انہیں کیسے قائل کرے گی، مگر پھوپھو کے ساتھ ”حیرتوں کی پٹاری“ ارفع کے ہوتے ہوئے بھلا کیا مشکل پیش آسکتی تھی۔

سفار ت خانے میں ویزے کے لیے کافی لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ جب ان کا نمبر آیا تو ارفع اپنی پھوپھو سے آگے کھڑی ہوئی اور ٹھیٹھ امریکی لہجے میں بولی:
''Mr This Is My Ticket And This Is Schedule Of Meeting With Bill Gates.My Father Has To Come From Kango To Join Us There.This Is The Situation And Now You Have To Work Out The Solution.''
اتنا با اعتماد لہجہ .... وہ پریشان دیکھتا رہ گیا۔ سفارت خانے کے اس افسر کو اس کا بااعتماد لہجہ اچھا لگا اور اس نے اسی لمحے فیصلہ کر لیا کہ وہ اسے ویزہ دے گا....مگر اس کے اعتماد کو مزید جانچنے کے لیے کہنے لگا۔ ”ویزہ ملنا اتنا آسان نہیں ہوتا....یہ تو مشکل ہے ہمارے کچھ اصول ہیں.... کچھ حدود ہیں۔“
”مشکل ہے تو آپ کے پاس آئے ہیں۔ آپ اس کا حل نکالیے ....کام تو ہوگا ....اور آپ کے ہی ہاتھوں ہوگا۔“ اس آدمی نے اپنے باقی ساتھیوں کو بلا کر کہا :”دیکھو تو سہی اتنی سی بچی ہے اور باتیں کیسے بااعتماد کرتی ہے۔“ ٹھیک 15 منٹ میں ارفع کو ویزہ مل چکا تھا۔ امریکا میں نرم گفتار، بل گیٹس سے ملاقات میں اس نے بل گیٹس پہ لکھی ایک نظم بھی اسے سنائی۔ قیاس تھا کہ ملاقات 15 منٹ کی ہوگی، مگر بل گیٹس کو شایدوقت کے گزرنے کا احسا س ہی نہیں ہوا۔

بل گیٹس نے جب مسلم خواتین کے نقاب لینے اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا تذکرہ کیا تو ارفع نے با اعتماد لہجے میں جواب دیا:”مسلم معاشرے کے حوالے سے بہت سی باتیں بنائی گئی ہیں۔ خواتین اپنی مرضی سے نقاب لیتی ہیں اور شہروں میں بھی عورتیں نقاب لیتی ہیں اور اپنی پڑھائی بھی کرتی ہیں۔ اسلام میں پڑھائی جتنی مردوں کے لیے ضروری قرار دیا ہے، اتنی ہی عورتوں کے لیے بھی اہم بتایا گیا ہے، کیا آپ کے مذہب میں تعلیم کی اتنی اہمیت ہے؟“ بل گیٹس نا صرف لاجواب ہوا بلکہ اس نے اپنے آفس کے باہر اس کے ساتھ تصاویر بھی کھنچوائیں۔ بل گیٹس سے اس ملاقات کے بعد ارفع نے پھر تو راتوں رات وہ شہرت حاصل کی کہ شاید ہی دنیا میں کوئی بچی اتنی مشہور ہوئی ہو ....!

پھر اسے مختلف کانفرنسوں میں بلایا جانے لگا۔ اس کے لیے پروگرام طے کر کے اس سے وقت لیا جانے لگا۔ 2005ءمیں انہیں وزیراعظمِ پاکستان نے سائنس و ٹیکنالوجی میں بہترین کارکردگی پر ”فاطمہ جناح گولڈ میڈل“ دیا تھا۔ اسی سال میں صدر نے بھی اسے ”پرائیڈ آف پرفارمنس “ اور ”سلام پاکستان یوتھ ایوارڈز“ سے نوازا تھا۔اس کے علاوہ ارفع کو کئی بین الاقوامی ایوارڈز بھی ملے تھے۔ ارفع نے اتنی شہرت پانے کے باوجود روایتی کاموں سے جی نہیں چرایا۔ اسے کھانا بنانا اچھا لگتا تھا .... اس نے اپنی امی سے خود فرمائش کی کہ وہ کھانا بنا یا کرے گی۔ ارفع کو پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ وہ علامہ اقبال کی شاعری سے لے کر بھلے شاہ تک کو پڑھ چکی تھی۔

ایک نئی تاریخ رقم کرنے والی اس بچی کو 2 دسمبر 2011ءمیں بیماریوں نے آگھیرا .... نہ جانے اس ذہین بچی کو کس کی نظر لگ گئی۔ اسے پہلے مر گی کا دورہ ....پھر دل کا دورہ ....اور پھر برین ہیمبرج نے اس ننھی جان کا سفرآخرت مزید قریب کر دیا۔ 14 جنوری 2012 ءکو اس جہان فانی سے کوچ کر نے والی ننھی ارفع نے نئی نسل کو آگے بڑھنے کا وہ ذوق دیا جسے جتنا سراہا جائے کم ہے۔ اس ننھے پھول نے ایک مثال قائم کی ....تاریخ میں شاید اب ماں باپ اپنے بچوں کو ارفع کریم جیسا بننے کی تلقین کر یں گے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ارفع کو آخرت میں بھی کامیاب و کامران کرے جیسا وہ اس دنیا میں کامیاب و کامران ٹھہری۔ ارفع نے اپنے ایک انٹرویو میں کہاتھا:”میں پاکستان میں ایک ایسا آئی ٹی شہر آباد کرنا چاہتی ہوں جہاں بچوں کو مفت کمپیوٹر کی تعلیم دی جائے۔اس کے علاوہ ملک کے تمام اسکولوں اور کالجوں میں کمپیوٹر لیب بنائے جائیں اور ہر طالب علم کو کمپیوٹر تک رسائی دی جائے۔“ کیا آپ ارفع کریم کا یہ خواب پورا کریں گے؟

ارفع کریم کی ایک نظم:
دو کہیں تنہا ایک پرندہ انگشت بدنداں
سوچا تھا کہ یہ لوگ کیوں ہیں اتنے ناداں
جانتے ہوئے بھی کہ جانا ہے اس کے پاس
کیوں نہیں آتے یہ برے کاموں سے باز
اے حضرت انسان تو راہ راست پر نہیں ہے
جانا ہے کہیں اور تو اور کہیں ہے
اپنی آنکھیں کھول سوئے منزل چل
کہ آرہا ہے تیرے سامنے ایک نیا کل

Pakistani mechanical engineer


Karachi: A Pakistani mechanical engineer and a school science teacher has developed a rocket missile, with initial capability of flying up to 320 feet high, which uses water as its fuel.“I had to cut water bottle and to install air compressor to develop this missile,” says Muhammad Faisal, a teacher in Government Model School, Karachi, the economic hub of the country.Using back pressure technique to launch, the missile could easily be used for training purposes in Pakistan Army, he viewed while talking with Daily Nai Baat.“By adding Uranium material in the rocket to get air pressure, it could also be used to hit a target.”Faisal is a gold medalist of a training course of mechanical engineering of Pakistan Air Force’s Engineering Corps.A frenzy of inventions, Faisal looks determined to work for his country by adding his engineering and scientific inventions.

Friday, August 31, 2012

Mr. waqas

http://youtu.be/AjMC

Mr. waqas is the most talented student of Pakistan for more information please wait.