Monday, January 7, 2013

اسلامی ٹیکنالوجی کا شاہکار-جائے نماز قبلہ کی سمت روشن ہو جاتا ہ


KARACHI: Hydrolic Turbine is being used to produce electricity from sea-water waves.





KARACHI: Hydrolic Turbine is being used to produce electricity from sea-water waves.

پاکستان نیوی انجینئرنگ کالج کے طلبا نے سمندر کی منہ زور لہروں سے بجلی پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے، ویو انرجی کو استعمال کرتے ہوئے ہائیڈرولک ٹربائن چلانے کا تجربہ کامیاب ہوگیا ہے،


یہ پراجیکٹ پاکستان نیوی انجینئرنگ کالج، NUSTکے ڈین آف انجینئرنگ سائنس ڈاکٹر شفیق الرحمن کی نگرانی میں مکمل کیا گیا اور گذشتہ ماہ منوڑہ کے ساحل پر ویوانرجی سے 60 واٹ فی سیکنڈ بجلی مسلسل حاصل کی گئی.


سمندر کی لہروں سے زیادہ ایڈوانس طریقے سے ہائیڈرولک پریشر بناکر ٹربائن چلانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے یہ طریقہ لہروں کی آمد میں وقفے کے باوجود ایک accumulator میں جمع شدہ پریشر کے ذریعے مسلسل بجلی فراہم کرتا ہے، انھوں نے بتایا کہ پاکستانی سمندری حدود میں ہر ایک میٹر کی لہر سے 15 کلو واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے عموماً کراچی کے ساحل پر ڈیڑھ منٹ بعد دوسری بڑی لہر آتی ہے۔
 

Pakistani Taxi Driver Returns 9.5 KG Gold and $ 40,000 in Dubai


پاکستانی پرچم کی سربلندی





سمندر پار پاکستانی بھی پاکستانی پرچم کی سربلندی کےلئے سرگرم اٹلی میں مقیم پاکستانی نے سمندر کی 75 فٹ گہرائی میں قومی پرچم لہرادیا۔ قمر الزمان کا کہنا ہے کہ 100 فٹ کی گہرائی میں پاکستانی پرچم لہرانا چاہتا ہوں۔ مواقع فراہم کئے جائیں تو پاکستانی ہر شعبے میں نام پیدا کرسکتے ہیں۔ مقامی سوئمنگ سکول سے غوطہ خوری کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنےوالے قمر الزمان نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ وہ اب 100 فٹ گہرائی میں جاکر پرچم لہرانے کی کوشش کریں گے۔


Solar Panel in GUJARAT , PAKISTAN



This solar panel laid on the vast stretches of agricultural channels in Gujarat generates 1 MW of electricity per KM & prevents evaporation of 1 crore liters of water every year !!

Hm Mobile Door Lock ARY News Mobile Door Lock PKG

http://youtu.be/XEIvuNhWK-s

Saturday, December 22, 2012

پاکستان:





پاکستان:

جہاں جوتے خریدنے کے بھی پیسے نہ ہوں اور کوئی ہاشم خان سکواش کے میدان میں جھنڈا گاڑ دے اور پھر اگلے باون برس تک اس کا خاندان یہ جھنڈا نہ گرنے دے۔


جہاں ملک کے اڑتیس فیصد بچے پہلی جماعت بھی مکمل کیے بغیر سکول سے ڈراپ آؤٹ ہوجائیں اور کوئی علی معین نوازش ایک ہی برس میں اکیس مضامین میں اے لیول لینے کا عالمی ریکارڈ قائم کردے،

جہاں ولید امجد ملک اقوامِ متحدہ کے تحت انسانی حقوق پر مضمون نگاری کے عالمی مقابلے میں اول آجائے۔

جہاں نو سالہ ارفع کریم دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سوفٹ کمپیوٹر انجینیر کے طور پر ابھر آئے۔

جہاں نابیناؤں کے لیے نہ تعلیم کی ضمانت ہو اور نہ ہی روزگار کی وہاں کے نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم ایک نہیں دو ورلڈ کپ جیت جائے۔

جہاں کے پہاڑی لوگ غیرملکی کوہ پیماؤں کے قلی بن کر گھر کا چولہا جلنے پر خوش ہوجائیں اور ان میں سے کوئی نذیر صابر اور پھر کوئی حسن صدپارہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لے۔

جہاں ایم ایم عالم نامی ایک پائیلٹ ایک پرانے فائیٹر جہاز سے صرف ایک منٹ میں دشمنوں کے پانچ طیارے گرا کر دنیا کی ہوائی جنگ میں نہ ٹوٹنے والا ریکارڈ بنا دے

جہاں اوپر سے نیچے تک کچھ لے دیئے بغیر سرمایہ کاری کا تصور ہی محال ہو وہاں کا کوئی اسد جمال فوربس میگزین کی ٹاپ ہنڈرڈ گلوبل وینچر کیپٹلسٹ لسٹ میں آٹھویں نمبر پر آجائے۔

جہاں ایسے حالات میں بھی لوگ ایسے کارنامے سر انجام دے رہے ہو سر فخر سے بلند ہو جائے
اور اگر حالات سازگار ہو جائیں تو یہ ملک بلاشبہ دنیا کا بہترین ملک بن جائے

یہ ہے میرا وطن ، میرا فخر، میری پہچان، میرا پیارا پاکستان
مجھے فخر ہے پاکستانی ہعنے پر۔۔